میں یہ مانتا ہوں کہ ڈگری کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔
یہ بات بہت لوگوں کو بری لگتی ہے، اس لیے پہلے وہ حصہ بتا دیتا ہوں جہاں میں غلط ہوں۔
کچھ جگہوں پر ڈگری واقعی ضروری ہے
ڈاکٹر کی فیلڈ الگ ہے۔ وہاں ڈگری کے بغیر کوئی آپ کو مریض کے قریب نہیں جانے دے گا، اور نہ ہی جانا چاہیے۔
انجینئرنگ میں بھی کئی جگہ یہی بات ہے۔ کچھ کام ایسے ہیں جہاں قانون خود ڈگری مانگتا ہے۔
تو یہ بات ہر فیلڈ کے لیے نہیں ہے۔ یہ ہماری فیلڈ کے لیے ہے۔
ہمارے کام میں کیا ہوتا ہے
اگر آپ ویب سائٹ بناتے ہیں، ڈیزائن کرتے ہیں، آٹوکیڈ پر نقشے بناتے ہیں، یا آن لائن اسٹور سیٹ کرتے ہیں، تو کوئی کلائنٹ آپ سے ڈگری نہیں مانگتا۔
وہ ایک ہی چیز پوچھتا ہے: پہلے کیا بنایا ہے، دکھاؤ۔
اور یہاں ایک بات غور کرنے والی ہے۔ ڈگری لے کر بھی آپ کو یہی دکھانا پڑتا ہے۔ ڈگری والا بندہ بھی جب کام مانگنے جاتا ہے تو اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کچھ بنایا ہے؟
تو اصل چیز کیا ہوئی۔ کام۔
ڈگری لے کر بھی ثبوت دینا پڑتا ہے۔ تو پھر ثبوت ہی اصل چیز ہے۔
سیکھی ہوئی چیز پرانی ہو جاتی ہے
ایک بات جو ہماری فیلڈ میں ڈگری کو اور کمزور کر دیتی ہے: جو آپ نے چار سال پہلے سیکھا تھا، اس میں سے آدھا اب کام کا نہیں رہا۔
میں ایک سیدھی مثال دیتا ہوں۔ اگر آپ آج بھی ہر چیز ہاتھ سے کوڈ کر رہے ہیں، اور آپ کو یہ تک نہیں پتا کہ اب یہی کام آدھے وقت میں کیسے ہو سکتا ہے، تو مسئلہ آپ کی ڈگری کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ رک گئے ہیں۔
معاشرہ بدلتا رہتا ہے۔ آپ کو بھی ساتھ ساتھ بدلنا پڑتا ہے۔ نئی چیز سیکھتے رہیں، پرانی کو پکڑ کر مت بیٹھے رہیں۔
پھر ڈگری کی جگہ کیا رکھیں
ایک فولڈر۔ اس میں آپ کا بنایا ہوا کام ہو۔
بیس نقشے، دس ڈیزائن، تین ویب سائٹس، جو بھی آپ کی فیلڈ ہے۔ چاہے وہ سب آپ نے پریکٹس کے لیے بنائے ہوں اور کسی نے ایک روپیہ نہ دیا ہو۔
کلائنٹ یہ نہیں پوچھتا کہ اس کے پیسے کس نے دیے تھے۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ آپ بنا سکتے ہیں یا نہیں۔
یہ ڈگری چھوڑنے کا کہنا نہیں ہے
اگر آپ پڑھ رہے ہیں تو پڑھتے رہیں، خاص کر اگر گھر والوں کی خواہش ہے۔ ان کا دل دکھانے کی ضرورت نہیں۔
بس ساتھ ساتھ ایک ہنر بھی سیکھ لیں۔ اور اس ہنر سے کچھ بنا لیں۔
پھر جس دن ڈگری کام آ گئی، ٹھیک۔ اور جس دن نہ آئی، تب بھی آپ کے پاس دکھانے کو کچھ ہوگا۔
دو سوال
میں تیس کا ہو گیا ہوں، اب دیر تو نہیں ہو گئی؟
نہیں۔ اس فیلڈ میں کوئی آپ کی عمر نہیں پوچھتا۔ کام دیکھتا ہے۔ اور تیس سال کے بندے کے پاس ایک چیز اکثر زیادہ ہوتی ہے: بات کرنے کا سلیقہ۔ کلائنٹ کے ساتھ یہ چیز کام آتی ہے۔
لیپ ٹاپ نہیں ہے، موبائل سے ہو سکتا ہے؟
کچھ کام ہو سکتا ہے، جیسے ڈیزائن اور سوشل میڈیا۔ آٹوکیڈ اور کوڈنگ نہیں ہو سکتی۔ لیکن موبائل سے شروع کر کے پہلا کام لے لیں، پھر لیپ ٹاپ اسی کمائی سے آ جائے گا۔ لوگوں نے ایسے ہی شروع کیا ہے۔
آخری بات
ڈگری برا کاغذ نہیں ہے۔ بس وہ اکیلا کافی نہیں ہے۔
کام آنا چاہیے، اور وہ کام دکھانے کے قابل ہونا چاہیے۔ یہ ہے۔
آٹوکیڈ، ڈیزائن، آن لائن اسٹور۔ کورسز مفت ہیں، سیکھیں اور بنانا شروع کریں۔
کورسز دیکھیں